تحریر: سیده ناظمہ حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی|
بسم الله الرحمٰن الرحیم
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔(سورۃ آل عمران: 169)
محرم الحرام صرف اسلامی سال کا آغاز نہیں بلکہ قربانی، صبر، حق، وفاداری اور انسانیت کی بقا کی عظیم تاریخ کی یاد ہے۔ انہی ایام میں ایک ایسا دن بھی آتا ہے جو دلوں کو غم سے بھر دیتا ہے، آنکھوں کو اشکبار کرتا ہے اور انسانیت کو جھنجھوڑ دیتا ہے؛ اور وہ دن ہے یومِ علی اصغرؑ یا عالمی یومِ شیرخوارگانِ حسینی۔
یہ دن عموماً محرم الحرام کے پہلے جمعہ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن حضرت امام حسینؑ کے کمسن اور معصوم فرزند حضرت علی اصغرؑ کی عظیم قربانی کو یاد کیا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک یادگار دن نہیں بلکہ ظلم کے خلاف احتجاج، حق کے ساتھ وفاداری اور انسانیت کے دفاع کا عالمی پیغام ہے۔
حضرت علی اصغرؑ، جنہیں بعض روایات میں عبداللہ رضیعؑ بھی کہا جاتا ہے، کربلا کے سب سے کمسن شہید تھے۔ ان کی عمر تقریباً چھ ماہ بیان کی جاتی ہے۔ وہ اس عظیم قافلے کا حصہ تھے جو مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا تک صرف حق کی خاطر سفر کرتا رہا۔
کربلا کا پس منظر
امام حسینؑ نے بیعتِ ظلم کو قبول نہ کیا۔ آپؑ نے اعلان فرمایا کہ آپ کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو زندہ کرنا ہے۔ جب قافلۂ حسینی کربلا پہنچا تو دشمن نے پانی بند کر دیا۔ خیموں میں عورتیں، بچے اور بیمار موجود تھے۔ پیاس شدت اختیار کرتی گئی۔
اسی ماحول میں حضرت علی اصغرؑ بھی موجود تھے۔
یہ تصور ہی دل کو لرزا دیتا ہے کہ چھ ماہ کا بچہ کئی دن کی پیاس کے عالم میں خیمے میں موجود ہو، اور اس کی ماں اس کی بے قراری دیکھ رہی ہو۔
روایات میں ذکر ملتا ہے کہ امام حسینؑ حضرت علی اصغرؑ کو اپنی آغوش میں لے کر میدان میں تشریف لائے۔ آپؑ نے فرمایا کہ اگر مجھ سے دشمنی ہے تو اس معصوم بچے پر رحم کرو۔ اسے پانی دے دو۔
مگر جواب پانی نہ تھا۔
تاریخ بیان کرتی ہے کہ ایک تیر چلایا گیا جس نے حضرت علی اصغرؑ کے ننھے گلے کو زخمی کر دیا۔
یہ لمحہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تاریخ کا دردناک ترین لمحہ بن گیا۔
حضرت علی اصغرؑ کی قربانی کا پیغام
حضرت علی اصغرؑ کی شہادت کئی سوال انسانیت کے سامنے رکھتی ہے:
ظلم کس حد تک جا سکتا ہے؟
حق کے لیے قربانی کی آخری حد کیا ہے؟
کیا معصومیت بھی ظلم سے محفوظ رہتی ہے؟
انسان اپنی اقدار کے لیے کیا قربان کر سکتا ہے؟
حضرت علی اصغرؑ جواب بن کر سامنے آتے ہیں کہ حق کی راہ میں عمر کی قید نہیں، اخلاص اور صداقت اصل معیار ہیں۔
کربلا میں ایک طرف ظاہری طاقت تھی اور دوسری طرف ایمان۔ ایک طرف لشکر تھا اور دوسری طرف حق۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ فتح ہمیشہ اصولوں کی ہوتی ہے۔
یومِ علی اصغرؑ کیوں منایا جاتا ہے؟
دنیا بھر میں اس دن اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ:
واقعۂ کربلا کو زندہ رکھا جائے
بچوں کو اہلِ بیتؑ کی محبت سے آشنا کیا جائے
ماں اور بچے کے مقدس تعلق کو یاد کیا جائے
مظلوموں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جائے
انسانیت کو ظلم کے نتائج سے آگاہ کیا جائے
اس دن بہت سی مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو ساتھ لاتی ہیں اور اس عہد کی تجدید کرتی ہیں کہ وہ اپنی اولاد کو حق، دیانت، حیا اور اہلِ بیتؑ کی محبت کے ساتھ پروان چڑھائیں گی۔
یومِ علی اصغرؑ کی مجلس کے اہم حصے
1۔ تلاوتِ قرآن
مجلس کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے کیا جاتا ہے۔
2۔ فضائلِ اہلِ بیتؑ
امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کے مقام اور فضائل بیان کیے جاتے ہیں۔
3۔ ذکرِ حضرت علی اصغرؑ
حضرت علی اصغرؑ کی سیرت، مظلومیت اور قربانی بیان کی جاتی ہے۔
4۔ مرثیہ و نوحہ
غمِ اہلِ بیتؑ کا اظہار۔
5۔ اجتماعی دعا
امتِ مسلمہ، مظلوموں اور انسانیت کے لیے دعا۔
6۔ عہد و تجدید
اپنی نسلوں کو کربلا کے پیغام سے جوڑنے کا عزم۔
ماؤں کے لیے پیغام
یومِ علی اصغرؑ ماؤں کے لیے بھی ایک عظیم درس ہے۔
حضرت رباب سلام اللہ علیہا نے مصیبت میں صبر، ایمان اور خدا پر توکل کی مثال قائم کی۔ آج کی مائیں بھی اپنی اولاد کی تربیت میں سچائی، عبادت، اخلاق اور انسانیت کے اصولوں کو زندہ رکھ سکتی ہیں۔
نوجوانوں کے لیے پیغام
کربلا صرف تاریخ نہیں، کردار سازی کا مکتب ہے۔
حق پر قائم رہو
ظلم کا ساتھ نہ دو
کمزور کا دفاع کرو
دین اور انسانیت کے لیے زندہ رہو
اختتامی کلمات
یومِ علی اصغرؑ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کربلا صرف ایک میدان نہیں بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک زندہ پیغام ہے۔ حضرت علی اصغرؑ کی قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ معصومیت بھی حق کی گواہی بن سکتی ہے اور ظلم وقتی طور پر غالب ہو کر بھی ہمیشہ کے لیے شکست کھا جاتا ہے۔
آج جب ہم یومِ علی اصغرؑ مناتے ہیں تو دراصل ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ کربلا کا پیغام زندہ ہے، امام حسینؑ کا راستہ زندہ ہے اور حضرت علی اصغرؑ کی مظلومیت انسانیت کے ضمیر کو ہمیشہ جگاتی رہے گی۔
السلام علی الحسینؑ
وعلی علی بن الحسینؑ
وعلی اولاد الحسینؑ
وعلی اصحاب الحسینؑ
السلام علی علیٍّ الاصغرؑ
یا علی اصغرؑ، ہماری نسلوں کو حق اور اہلِ بیتؑ کی محبت پر قائم رکھنا۔









آپ کا تبصرہ